کاروار 19؍نومبر(ایس او نیوز)ضلع کاروار میں امسال بارش کی قلت کی وجہ سے کھیتی باڑی کو جو نقصان ہواہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے 29ہزار ہیکٹر زرعی زمین کا سروے کیا گیا۔ جس سے پتہ چلا ہے کہ 4770ہیکٹر کھیتوں کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔اس بات کی اطلاع ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر نے کاروار میں منعقدہ کے ڈی پی میٹنگ میں دی۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے سداسپور، یلاپور، منڈگوڈ اور ہلیال کے تعلقہ جات کوبارش کی شدید قلت کی وجہ سے قحط زدہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ جوئیڈا اور سرسی میں بھی چونکہ تقریباً33فیصدی فصلیں تباہ ہوئیں اس لئے ان علاقوں کو بھی قحط زدہ قرار دینے کے لئے ڈی سی کی معرفت حکومت کو تجویز بھیج دی گئی ہے۔
جئے شری موگیر نے بتایا کہ ضلع کے تمام آنگن واڑی مراکز کو بجلی کا کنکشن دینے اور نئے آنگن واڑی مراکز کی تعمیر کے سلسلے میں تیزی سے کام مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی پی ایل کارڈ والوں کو مفت ایل پی جی گیس کنکشن فراہم کرنے کی اسکیم ہونے کے باوجود مٹی کا تیل حاصل کرنے کی سہولت ختم ہونے کے ڈر سے لوگ ایل پی جی کنکشن لینے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں گرام پنچایت سطح پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔اس کے علاوہ محکمہ صحت کی طرف سے ڈی ایچ او ڈاکٹر اشوک نے تمام محکمہ جات کے ذمہ داران سے کہا کہ ضلع میں تمباکو سے بنی اشیاء پر جو پابند ی ہے اس کو پوری طرح لاگو کرنے کی سمت میں تعاون کریں۔ضلع میں مختلف وبائی امراض کے بارے میں ڈاکٹر موصوف نے بتایا کہ امسال اب تک ڈینگیو کے 71معاملات، چوہا بخار(ریاٹ فیور) 20،ایچ ون این ون1،بندر بخار2 اور ملیریا کے 57معاملات پتہ چلے ہیں۔ان میں سے صرف چوہابخار کے معاملے میں ایک موت واقع ہوئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع کے تمام سرکاری اسپتالوں میں سانپ کے کاٹے کا علاج کرنے کی دوائی موجود ہے اس لئے عوام کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ضلع پنچایت کے سی ای او مسٹرایل چندر شیکھر نے کہا کہ نیشنل ہائی وے کے توسیعی کام کے دوران بعض گرام پنچایت علاقوں میں پینے کے پانی کے نلوں کو نقصان پہنچا ہے جس کو درست کرنے کی ہدایت سڑک تعمیری کام کی ٹھیکیدار کمپنی آر آر بی کو دی گئی ہے۔اس موقع پر اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیرمین بسواراج دوڈمنی ،شیوانند آر ہیگڈے اور مختلف محکمہ جات کے افسران موجود تھے۔